چنڈی گڑھ،28؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ہریانہ حکومت کی ایک میگزین میں شائع تصویر کے ساتھ لگے کیپشن میں پردہ کو ریاست کی شناخت بتایا گیا ہے، جس سے ایک تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔اپوزیشن کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بی جے پی حکومت کی پسماندہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔اگرچہ سینئر وزیر انل وج نے اپوزیشن کے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے بہت سے اقدامات کئے ہیں اور وہ اس بات کی حمایت نہیں کر رہی کہ خواتین کو پردہ رکھنے کے لئے مجبور کیا جانا چاہئے۔زراعت ڈائیلاگ نامی میگزین کے حالیہ شمارے میں پردہ والی خاتون کی تصویر چھپی ہے۔خاتون اپنے سر پر چارہ لے کر جا رہی ہے اور کیپشن میں لکھا ہے، گھونگھٹ کی آن-با، مہارے ہریانہ کی پہچان۔
خاتون کی تصویر کے ساتھ چھپے کیپشن پر تیکھارد عمل دیتے ہوئے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا اور سینئر کانگریس لیڈر اور پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت کی پسماندہ ہوئی سوچ دکھاتا ہے۔ہڈا نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت کی پسماندہ سوچ دکھاتا ہے۔ہریانہ کی خواتین ہر شعبے میں آگے ہیں،تین ہی دن پہلے ریاست کی ایک لڑکی کو مس انڈیا کا تاج پہنایا گیا۔ریاست کی لڑکیوں نے کھیلوں اور دیگر علاقوں میں اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔ہندوستان میں پیدا ہونے والی امریکی خلاباز آنجہانی کلپنا چاولہ ہریانہ سے ہی تھی۔حال ہی میں ہریانہ کی لڑکی مانشی چلر کوفیمنا مس انڈیا 2017کا تاج پہنایا گیا۔